بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کل [بروز منگل 27 اکتوبر 2026ع] جوہری عدم پھیلاؤ کے موضوع پر اجلاس منعقد کیا، لیکن مغربی ممالک نے ایک بار پھر ایران کے خلاف اپنے گھسے پٹے کے دعوے دہرائے!
تاہم، روس اور چین کے نمائندوں نے ایران کے کیس کو سلامتی کونسل میں بھیجنے کی مخالفت کی اور ایران کے خلاف مغربی رویئے پر تنقید کی۔
سلامتی کونسل میں چین کے نمائندے فو کانگ (Fu Cong) نے ایران کا کیس سلامتی کونسل میں بھیجنے پر مغربی ممالک کے بے جا اصرار پر تنقید کرتے ہوئے کہا: "قرارداد 2231 گذشتہ سال اکتوبر میں ختم ہو چکی ہے اور سلامتی کونسل اور جوہری توانائی ایجنسی کو اب ایران کے جوہری کیس کا جائزہ نہیں لینا چاہئے۔"
انھوں نے کہا: "امریکہ کو ایران کے خلاف مزید حملوں کی اپنی خواہش ترک کرنی چاہئے کیونکہ تنازعات کا دوبارہ آغاز ایک 'عظیم تباہی' کا باعث بنے گا۔"
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کے نمائندے واسیلی نیبنزیا (Vasily Nebenzya) نے بھی ایران سے متعلق تحفظات کے معاملے کو سلامتی کونسل میں منتقل کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا اور کونسل کے اراکین سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے جوہری کیس کے بارے میں "تباہ کن راستہ" ترک کر دیں۔
انہوں نے امریکہ اور یورپ پر الزام لگایا کہ وہ ایران کے جوہری کیس کے بارے میں اہم حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں، یعنی "امریکہ اور اسرائیل کے حملے اور امریکہ کا JCPOA سے یکطرفہ انخلا"۔
روس کے نمائندے نے زور دے کر کہا: "روس کی رائے یہ ہے کہ ایران کے گرد تنازع کے لئے سفارتی حل کی ضرورت ہے اور اس کا دوسرا کوئی متبادل نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔"
سلامتی کونسل میں امریکہ اور فرانس کے نمائندوں نے روس اور چین پر تنقید کرتے ہوئے ایران کے خلاف اپنے بے بنیاد دعوے دہرائے اور یہ دعویٰ کیا کہ "ایران کی اپنے وعدوں کی عدم پابندی" کے پیش نظر اس ملک کا جوہری کیس کونسل کے ایجنڈے پر رہ سکتا ہے اور رہنا چاہئے!
مغربی ممالک نے اب تک کئی بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف پابندیاں لگانے کی کوشش کی ہے، لیکن روس اور چین کی مخالفت کی وجہ سے یہ کوششیں لاحاصل رہی ہیں۔
کل کے اجلاس میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی بھی موجود تھا جس نے ایران کے جوہری کیس کے بارے میں اپنے خیالات دہرائے اور تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دے۔
گروسی نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ ایجنسی کے ساتھ تعاون کرے اور مزید کہا کہ ایجنسی نے ان تنصیبات کے معائنے کا مطالبہ کیا ہے جن پر امریکہ اور اسرائیل نے حملے کئے تھے، لیکن ایران کی جانب سے ایسی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں۔
گروسی معائنوں کی اجازت پر اصرار کر رہا ہے جبکہ اس نے اب تک ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی جارحیت کی کبھی مذمت نہیں کی، ایسی تنصیبات جو بین الاقوامی قوانین کے فریم ورک میں کام کر رہی تھیں۔ علاوہ ازیں ان پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی رجیم کے حملے کے لئے راستہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا ہے اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ ایران کی متاثرہ تنصیبات کے معائنے پر اس کا اصرار اس لئے ہے کہ مغربی ممالک نقصانات کی سطح سے آگاہ ہونا چاہتے ہیں تاکہ مزید مؤثر حملوں کی منصوبہ بندی کر سکیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ